وہ پانی سفید کیوں تھا ؟

راستہ لمبا تھا اور موسم گرم ۔ خیبرپختونخواہ کے ان انتہائی جنوبی علاقوں میں گرمی خوب زوروں پر تھی، اکتوبرجسے خزاں yyy
کے جوبن کا مہینہ سجھا جاتا ہے مگریہاں تو جون کی گرمی کا منظرپیش کررہا تھا۔ ہماری گاڑی چھوٹے چھوٹے دیہات کو پیچھے چھوڑے تنگ پگڈنڈیوں سے برابرآگے بڑھتی جا رہی تھی۔ ایک جگہ ہمیں چھوٹی دُکان نظرآئی اور ہم نے گاڑی روکی۔ میں نےپانی کی چند بوتلیں خریدیں اور اپنے ساتھیوں سے کہا کہ کچھ بوتلیں ساتھ رکھے تا کہ ہمیں آگے بھی کام آۓ۔
ہماری ایک کولیگ نے اس کے جواب میں کہا کہ وہ فیلڈ وزٹزپر اپنے ساتھ نیسلے وغیرہ کا پانی نہیں رکھتی۔ چونکہ ہمارے کام کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ہم اسسمنٹ، مانٹیرنگ اور ایوالویشن کے عناصر کو مدنظررکھتے ہوۓ لوگوں اوراپنی پروگرام ٹیم سےتواترسوالات پوچھتے رہتے ہیں فلاں کام ایسا کیوں ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو کیا ہوتا؟ وغیرہ۔۔۔ اسی وجہ سے مجھ سے بھی رہا نہ گیا اور اپنی کولیگ سے استفسار کیا کہ پانی ساتھ کیوں نہیں رکھتی، پانی تو زیادہ پینا چاہئیے۔۔۔۔ پھر اُنہوں نے ایک مختصر کہانی کچھ یوں سُنائی۔۔ “چند مہینے قبل میں ایک کیمونٹی مٹینگ کے حوالے سے بلو‍چستان سے متصل علاقے میں کچھ مردو خواتین سے ملی، ساتھ نیسلے کا پانی تھا، مٹینگ کے دوران پیاس بُجھانے کے لئے میں نے پانی پیا۔۔ایک بچہ غور سے میری طرف دیکھ رہا تها اور میں نے اُس سے پوچھا کہ وہ پانی پینا پسند کریں گے، انہوں نے کچھ شرمیلے لہجے میں انکار کیا، چند لمحے بعد اُس نے پاس بیٹھی اپنی ماں سے پوچها کہ وہ پانی سفید ﴿یعنی صاف﴾ کیوں ہے اورکیا لوگ سفید پانی پیتے ہیں؟ ﴿کیونکہ اُس جگہ کے لوگ اب بھی تالاب کا گندہ پانی پیتے ہیں﴾ اس پر میری آنکھوں سے آنسو آۓ، ساتھ پڑی دوسری پانی کی بوتل اُسے تھما دی اور
اُسی وقت تہیہ کر لیا کہ یا تو کیمونٹی مٹینگز میں اپنے ساتھ پانی نہیں رکھوں گی یا وہی کا گدلا پانی پئوں گی۔ بس اسی لئے۔۔۔۔۔۔”
اپنی کولیگ کی یہ مختصرمگربھاری کہانی سُننےکے بعد لوگوں کودرپی‍ش ان گنت مسائل کےوہ تمام اندوہناک مناظر میرے
سامنےآۓ جن کا میں چشم دید گواہ تھا کیونکہ پچھلے چند ہفتوں میں میں نے بلوچستان میں کوئٹہ تا تربت، سندھ میں کراچی تا سکھراور پنجاب و خیبر پختونخواہ کے پسماندہ علاقوں میں تعلیم و صحت کے مسائل وہاں کے لوگوں سے سُنے اور دیکھے تھے۔۔۔ اسی خامشی میں نہ جانے کتنا وقت گزر گیا اور ہمارے ڈرائیور نے ایک جگہ گاڑی روکی۔ ہم گاڑی سے اُترے، کیمونٹی کے چند لوگ ہمارے انتظار میں تپتی دُھوپ میں کھڑے تھے، نہایت ادب سے ملے– میں کوئی سیاستدان یا بیوروکریٹ نہیں تھا جو اُن کے لئے کسی سکیم کا اعلان کرتا۔۔۔میں تو اںہی کی طرح کا ایک عام سا ‍شخص تھا، جو تعلیم و صحت کے حوالے سے
کیمونٹی کے اپنی مدد آپ کے تحت ہونے والے کام کا جائزہ لے رہا تھا۔۔۔۔
غریبِ شہر کے تن پر لباس باقی ہے
امیرِشہر کے ارماں ابھی کہاں نکلے
Advertisements


Categories: Uncategorized

Tags: , ,

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: